دہلی میں احتجاج کے دوران مظاہرین کی حراست کا معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ہفتے کے روز تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستانی حکام پر زور دیا کہ وہ پرامن اجتماع کے حق کا احترام کریں اور من مانی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کریں۔ جنتر منتر کی طرف مارچ کرنے والے ہزاروں مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا تاہم بعد میں کئی کو رہا کر دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان الخیتان نے کہا کہ وہ دہلی میں کل کے بڑے مظاہروں سے پہلے اور اس کے دوران مظاہرین، تحریک کے رہنماؤں، سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ارکان، وکلاء اور صحافیوں کی بڑے پیمانے پر حراست میں لیے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا شکار ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے، “ہم حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ پرامن اجتماع کے حق کا مکمل احترام کریں اور اس کو یقینی بنائیں۔”
الخیتان نے ہندوستانی حکام پر بھی زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار پرامن مظاہرین سے نمٹنے کے دوران انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی جمہوری روایات اور انسانی حقوق سے متعلق اس کے وعدوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا، “من مانی طور پر حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری اور بغیر کسی شرط کے رہا کیا جانا چاہیے۔”
مظاہرین نے دہلی کے ایک اہم مقام جنتر منتر پر احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ سخت حفاظتی انتظامات اور سڑکوں پر رکاوٹوں نے زیادہ تر مظاہرین کو علاقے تک پہنچنے سے روک دیا۔ ابھیجیت دپکے، اور ان کے ساتھیوں، سورو داس اور آشوتوش رانکا کو ممبئی سے دہلی جانے والی پرواز سے اترنے کے فوراً بعد حراست میں لے لیا گیا۔ دہلی پولیس نے ان کی حراست پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
مظاہرین نے کہا کہ گیانیش کمار کے استعفیٰ تک احتجاج جاری رہے گا۔ چیف جسٹس نے اتوار یعنی11 اکتوبر کو صبح 10 بجے جنتر منتر پر ایک اور احتجاج کا اعلان کیا۔ دریں اثنا، دہلی ٹریفک پولیس نے نئی دہلی اور وسطی دہلی میں ممکنہ پابندیوں کے بارے میں وارننگ جاری کی ہے۔
