لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر مودی حکومت اور چیف الکیشن کمشنر گیانیش کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’گیانیش کمار جائیں گے، یہ حکومت جائے گی، پھر شروع ہوگی جمہوریت کی مرمت۔‘‘ دوسری جانب کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے جنتر منتر پر مظاہرے کے پیش نظر دہلی میں بڑے پیمانے پر کیے گئے سکیورٹی انتظامات پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ज्ञानेश कुमार जाएँगे।
यह सरकार जाएगी।
फिर शुरू होगी लोकतंत्र की मरम्मत। pic.twitter.com/spGmBxgXLn— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 10, 2026
کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ملک کی راجدھانی کو ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ہر طرف مسلح سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 326 کے تحت حاصل ووٹ دینے کے حق کو منظم طریقے سے چھیننے کی کوشش پر تشویش ظاہر کرنے والے نوجوانوں کے پرامن احتجاج سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی جوڑی بری طرح خوف زدہ اور بوکھلائی ہوئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اپنی تقرری کے وقت اس تباہ کن جوڑی کی جانب سے دیے گئے احکامات پر پوری وفاداری سے عمل کیا۔ دسمبر 2023 میں، جب اپوزیشن کے 145 اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا تھا، تب انہیں تاحیات قانونی تحفظ فراہم کرنے والا قانون پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرایا گیا تھا۔‘‘
देश की राजधानी को एक किले में तब्दील कर दिया गया है। हर तरफ हथियारबंद सुरक्षाकर्मी तैनात हैं।
संविधान के अनुच्छेद 326 के तहत मिले वोट देने के अधिकार को सुनियोजित तरीके से छीनने की कोशिश को लेकर चिंतित युवाओं के शांतिपूर्ण विरोध प्रदर्शन से PM-HM की जोड़ी बुरी तरह घबराई और बौखलाई…
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 10, 2026
جے رام رمیش نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’سپریم کورٹ تک سے جھوٹ بولنے والے چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ اب ایک اخلاقی ضرورت بن گیا ہے۔ لیکن یہ ہماری جمہوریت کی بنیاد کو دوبارہ حاصل کرنے کی سمت میں محض پہلا قدم ہے۔ جمہوریت کی اس بنیاد کو دوبارہ مضبوط کرنا تمام لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایس آئی آر کے عمل کو روکنا بھی ضروری ہے، جس کے ذریعے اب تک تقریباً 14 کروڑ ہندوستانیوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا جا چکا ہے۔ ہمارے انتخابی نظام پر عوام کا بھروسہ اور اعتماد بحال کرنے کے لیے ایس آئی آر کو منسوخ کرنا ضروری ہے۔‘‘
