ایک خبر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے کہ سعودی عرب میں ایک خودکش حملہ آور نے مسجد الحرام کے اندر دھماکہ خیز مواد سے بھری جیکٹ میں دھماکہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ڈیوائس میں خرابی کے باعث کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ حملہ آور خانۂ کعبہ کے قریب پہنچ گیا تھا۔ تاہم سعودی حکام نے مکہ کی مسجد الحرام میں خودکش بم دھماکہ کی کوشش سے متعلق کسی بھی خبر کو مسترد کر دیا ہے۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں پھیلائے جا رہے دعوے فرضی ہیں۔
Saudi authorities on Friday rejected reports of a suicide bombing attempt at the Grand Mosque in Mecca, one of Islam’s holiest sites.
Read more: https://t.co/l9DHD6Z1n6 pic.twitter.com/sk6Cvf0Dze
— Roya News English (@RoyaNewsEnglish) October 2, 2026
سعودی پبلک سیکورٹی نے بتایا کہ مقدس مقام پر ایک شخص کو راہ گیروں کو پریشان کرنے اور ان میں گھبراہٹ و خوف پیدا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اس شخص کے خلاف فوری کارروائی کی گئی اور معاملے کو پبلک پرازیکیوشن کے حوالے کرنے سے پہلے ضروری قانونی اقدامات کیے گئے۔ حکام نے مزید کہا کہ اس شخص کے خلاف اسی وقت فوری کارروائی کی گئی اور آن لائن پھیلائی جا رہی خبروں کو واضح طور پر مسترد کر دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں پھیلائے جا رہے دعووں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ سعودی حکام نے سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اس سے قبل سامنے آنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک مشتبہ خودکش حملہ آور نے مسجد الحرام کے اندر دھماکہ خیز جیکٹ میں دھماکہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر حملہ کی کوشش روکے جانے سے پہلے وہ خانۂ کعبہ کے قریب پہنچ گیا تھا۔ حالانکہ اس وقت ان خبروں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ تاہم سعودی حکام کے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کو لوگوں کو پریشان کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، نہ کہ بم دھماکا کرنے کی کوشش کے الزام میں۔
