دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (ڈی یو ٹی اے) کے 3 بار صدر رہ چکے ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا سمیت کئی ماہرین تعلیم اور دانشور پیر کو کانگریس میں شامل ہو گئے۔ کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پروگرام میں دہلی پردیش کانگریس کے انچارج قاضی نظام الدین، پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو اور پارٹی کے درج فہرست ذات شعبے کے قومی صدر راجندر پال گوتم نے سبھی کو پٹکا پہنا کر باقاعدہ طور پر پارٹی میں شامل کرایا۔ کانگریس کی رکنیت لینے کے بعد ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا نے کہا کہ ’’ہم لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کا ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں، جو یونیورسٹیوں اور بالخصوص تعلیم پر ہونے والے تمام حملوں کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔‘‘
दिल्ली प्रदेश कांग्रेस प्रभारी @qazinizamuddin जी, प्रदेश अध्यक्ष @devendrayadvinc जी, @INCSCDept के चेयरमैन @AdvRajendraPal जी की मौजूदगी में डॉ. आदित्य नारायण मिश्रा समेत कई बौद्धिक साथी कांग्रेस पार्टी में शामिल हुए।
आप सभी को बहुत बधाई व भविष्य के लिए शुभकामनाएं
— Congress (@INCIndia) September 14, 2026
ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا نے راہل گاندھی سے متعلق مزید کہا کہ ’’وہ سرکاری مالی امداد حاصل کرنے والے اداروں کے تحفظ اور ہر فرد کے لیے انصاف اور وقار برقرار رکھنے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم اس عظیم جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ہزاروں اسکول بند کیے جا چکے ہیں اور اعلیٰ تعلیم بھی اس حملے کی زد میں ہے۔ یہ نظام کے انہدام کی صورتحال ہے۔ پورے ملک کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک بڑے انہدام کے دہانے پر ہیں جو دن و رات جاری ہے۔
⦿ We are joining to strengthen the hands of LoP Shri @RahulGandhi ji, who is a crusader against all the onslaughts that are taking place on universities and education in particular.
⦿ He is fighting to uphold government-funded institutions, and to uphold justice and dignity… pic.twitter.com/8xGzQw3NCH
— Congress (@INCIndia) September 14, 2026
اس موقع پر دہلی پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ ’’میں آدتیہ نارائن مشرا جی کا ’انڈین نیشنل کانگریس‘ میں خیرمقدم کرتا ہوں۔ وہ 3 بار دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔ آج ملک کے طلبہ کو صحیح سمت دینے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں اگر انہیں بہتر رہنمائی ملتی ہے تو آنے والا مستقبل صحیح راستے پر آگے بڑھے گا۔‘‘ دہلی پردیش کانگریس کے انچارج قاضی نظام الدین نے کہا کہ ’’آج ڈاکٹر آدتیہ نارائن مشرا اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔ میں ان کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج حالات یہ ہیں کہ اپنے حقوق کے لیے طلبہ کو سڑکوں پر اترنا پڑا، دھرنا دینا پڑا اور پولیس کی لاٹھیاں کھانی پڑیں۔ یہی نہیں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو تھانے جا کر جدوجہد کرنی پڑی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ سب کی فکری صلاحیتوں سے کانگریس پارٹی کو بہت فائدہ ہوگا۔‘‘
मैं आदित्य नारायण मिश्रा जी का ‘भारतीय राष्ट्रीय कांग्रेस’ में स्वागत करता हूं। वे तीन बार दिल्ली यूनिवर्सिटी टीचर्स एसोसिएशन के अध्यक्ष रहे हैं।
आज देश के छात्रों को दिशा देने की जरूरत है। ऐसे में अगर उन्हें एक बेहतर मार्गदर्शन मिलता है, तो आने वाला भविष्य सही रास्ते पर आगे… pic.twitter.com/5uFzctsnZm
— Congress (@INCIndia) September 14, 2026
आज डॉ. आदित्य नारायण मिश्रा जी अपने कई साथियों के साथ कांग्रेस में शामिल हो रहे हैं। मैं उनका बहुत-बहुत स्वागत करता हूं।
आज हालात ये हैं कि अपने अधिकारों के लिए छात्रों को सड़कों पर उतरना पड़ा, धरना देना पड़ा, पुलिस की लाठियां खानी पड़ी।
वहीं, छात्रों को न्याय दिलाने के लिए… pic.twitter.com/o0s7sck8Uz
— Congress (@INCIndia) September 14, 2026
کانگریس کے درج فہرست ذات شعبے کے قومی صدر راجندر پال گوتم نے اس موقع پر کہا کہ ’’میں آدتیہ نارائن مشرا اور ان کے ساتھیوں کا خیرمقدم کرتا ہوں، کیونکہ انہوں نے آج جمہوریت، آئین اور تعلیمی نظام کو بچانے کی سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ وہ ہمیشہ سے پروفیسروں اور طلبہ کی آواز اٹھاتے آئے ہیں اور سبھی ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’آج ہر روز آر ایس ایس-بی جے پی کا کوئی نہ کوئی لیڈر دہلی یونیورسٹی آتا ہے اور ان کے پروگراموں میں کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ آر ایس ایس-بی جے پی کے پروگراموں میں جتنی رقم خرچ کی جاتی ہے، اتنی رقم سے کئی ہاسٹل بن سکتے تھے اور ستیہ نکیتن جیسے واقعات پیش نہیں آتے۔‘‘ ان کے مطابق بی جے پی حکومت نے تعلیم مہنگی کر دی ہے۔ غریب ہی نہیں، عام خاندان بھی بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے پریشان ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ حکومت چاہتی ہی نہیں کہ ملک کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔
मैं, आदित्य नारायण मिश्रा जी और उनके साथियों का स्वागत करता हूं, क्योंकि उन्होंने आज लोकतंत्र-संविधान, एजुकेशन सिस्टम को बचाने का कदम उठाया है।
आदित्य नारायण मिश्रा जी हमेशा से प्रोफेसरों और छात्रों की आवाज उठाते आए हैं औए वे सभी इनपर भरोसा करते हैं।
आज हर दिन RSS-BJP का नेता… pic.twitter.com/vycWfvvtDS
— Congress (@INCIndia) September 14, 2026
