دہلی کی خستہ حال ایک سڑک کا ذکر کرنے والے شخص کو دہلی حکومت میں وزیر پرویش ورما نے گزشتہ روز برسرعام تھپڑ مار دیا تھا۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بی جے پی لیڈران کا تکبر ہے، جسے عوام فراموش نہیں کرنے والی۔
देश के नागरिक को BJP का थप्पड़
दिल्ली सरकार में मंत्री प्रवेश वर्मा से एक युवक ने घटिया सड़कों पर सवाल पूछ लिया।
फिर क्या था.. मंत्री जी भड़क गए और गुस्से में युवक को थप्पड़ जड़ दिए।
यही BJP का असली चेहरा है- जहां सत्ता के घमंड में चूर नेता-मंत्री खुद को ‘राजा’ और जनता को… pic.twitter.com/uxf9pPPjIa
— Congress (@INCIndia) September 27, 2026
کانگریس نے سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ملک کے شہری کو بی جے پی کا تھپڑ۔ دہلی حکومت میں وزیر پرویش ورما سے ایک نوجوان نے گھٹیا سڑکوں سے متعلق سوال پوچھ لیا۔ پھر کیا تھا… وزیر محترم ناراض ہو گئے اور غصے میں نوجوان کو تھپڑ لگا دیا۔‘‘ پارٹی آگے لکھتی ہے کہ ’’یہی بی جے پی کا حقیقی چہرہ ہے، جہاں اقتدار کے گھمنڈ میں چور لیڈر اور وزیر خود کو ’راجہ‘ اور عوام کو کیڑا مکوڑا سمجھتے ہیں۔‘‘
اس واقعہ پر اپنی شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ بی جے پی والے چاہتے ہیں لوگ ان کی بدعنوانی اور کمیشن کے کھیل میں مرتے رہیں، لیکن سوال نہ پوچھیں۔ اگر کسی نے سوال پوچھ لیا تو پھر انھیں پیٹ دیا جاتا ہے۔ کانگریس نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں دہلی کی بی جے پی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی یاد رکھے… عوام کچھ بھولتی نہیں ہے، ان کا گھمنڈ توڑ کر رہے گی۔‘‘
दिल्ली की BJP सरकार के एक मंत्री वीडियो में एक नौजवान को थप्पड़ मारते दिख रहे हैं।
उसका गुनाह? वो वीडियो बना रहा था।
मंत्री के सामने सड़क खोदकर दिखाई जा रही थी, और उसके हाथ में कैमरा था।ये उस सत्ता का चेहरा है जिसे अब वोटर से डर लगना बंद हो गया है।
सड़क पर सवाल पूछो – थप्पड़।…
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 27, 2026
اس واقعہ سے متعلق لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی اپنی رائے سامنے رکھی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’دہلی کی بی جے پی حکومت کے ایک وزیر ویڈیو میں ایک نوجوان کو تھپڑ مارتے نظر آ رہے ہیں۔ اس کا گناہ؟ وہ ویڈیو بنا رہا تھا۔ وزیر کے سامنے سڑک کھود کر دکھائی جا رہی تھی اور اس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’یہ اس اقتدار کا چہرہ ہے جسے اب ووٹر سے ڈر لگنا بند ہو گیا ہے۔ سڑک پر سوال پوچھو تو تھپڑ، پیپر لیک پر سوال پوچھو تو لاٹھی اور پارلیمنٹ میں سوال پوچھو تو مائک بند۔‘‘
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انھیں اب یہ خوف ہی نہیں کہ انتخاب انھیں ہٹا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ووٹ چوری یہی خریدتی ہے… صرف ریزلٹ نہیں، اس کے بعد آنے والا گھمنڈ بھی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’جو حکومت فتح کو یقینی مان لیتی ہے، اسے آپ کی رضامندی نہیں چاہیے۔ آپ کی خاموشی اور اندھ بھکتی چاہیے۔‘‘
دہلی کے تلک نگر میں پیش آئے اس معاملہ میں بی جے پی کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ دہلی بی جے پی کے ترجمان پروین شنکر کپور نے کہا کہ اتوار کی دوپہر تلک نگر اسمبلی حلقہ میں ہوا ہنگامہ اور تھپڑ واقعہ افسوسناک ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حالانکہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان حالات کو بھی سمجھنا ضروری ہے، جن میں یہ واقعہ پیش آیا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ سے تلک نگر اسمبلی حلقہ سے عآپ رکن اسمبلی جرنیل سنگھ وکاس پوری میں بنائی جا رہی سڑک پر کام کرنے والے ٹھیکیدار سے متعلق کچھ شکایتیں کر رہے تھے اور افسران پر ٹھیکیدار کے ساتھ میٹنگ کرنے کا دباؤ بنا رہے تھے۔ اسی معاملہ میں پرویش ورما سڑک کا جائزہ لینے پہنچے اور جرنیل سنگھ کو بھی بلایا۔ جرنیل سنگھ جب پہنچے تو ان کے ساتھ 40-50 لوگ بھی تھے۔ پروین شنکر نے سوال اٹھایا کہ آخر جرنیل سنگھ اتنے لوگوں کو لے کر کیوں پہنچے۔ جب جرنیل سنگھ اپنی کار پر بیٹھ کر جانے لگے، ٹھیک اسی وقت ایک شخص نے بدزبانی کی اور مشتعل ہو کر پرویش ورما نے تھپڑ لگا دیا۔ بی جے پی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ جرنیل سنگھ کے ذریعہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا، حالانکہ پرویش ورما نے خود مانا ہے کہ انھیں تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا۔
