امریکی بحریہ کے جنگی جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ پر تعینات 8 امریکی بحری فوجیوں نے طویل اور سخت مشن کے دوران خودکشی کی کوشش کی۔ بحریہ کے کارگزار سکریٹری ہنگ کاؤ نے امریکی سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کو لکھے ایک خط میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے منسلک مہموں کے سبب اس جنگی جہاز پر تعینات بحری فوجیوں کی ڈیوٹی کی مدت بار بار بڑھائی جا رہی تھی۔ بحری فوجیوں کے کنبوں نے شکایت کی تھی کہ اتنے طویل مشن کے سبب فوجیوں کی ذہنی صحت بگڑ رہی ہے اور جہاز پر رہنے کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔
Eight US Navy personnel assigned to the USS Abraham Lincoln carrier strike group attempted suicide during a marathon deployment that saw the fleet conduct high-intensity combat operations against Iran, according to CNN.
Read more: https://t.co/DCIn4f04C7 pic.twitter.com/mXnVmNu6ER
— Roya News English (@RoyaNewsEnglish) September 23, 2026
رپورٹس کے مطابق جہاز پر پینے کے صاف پانی کی کمی، خراب پلمبنگ اور تازہ کھانے کی قلت کی باتیں سامنے آئی تھیں۔ بحریہ نے کسی بھی بڑے ذہنی صحت بحران سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پائپ لائنوں میں کچھ وقت کے لیے خرابی آئی تھی اور کھانے کے متبادل میں تھوڑی تخفیف ہوئی تھی، لیکن اب حالات قابو میں ہیں۔ جہاز پر فوجیوں کی مدد کے لیے 5 مذہبی مشیر اور کئی ذہنی صحت کے ماہر موجود تھے۔
سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ نے ٹرمپ حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جن مسائل کو پہلے ’فرضی خبر‘ کہہ کر خارج کیا جا رہا تھا، وہ دراصل بحری فوجیوں کے لیے بے حد سنگین تھے۔ انھوں نے فوجیوں کے ساتھ ایسے سلوک کو پوری طرح سے ناقابل قبول بتایا۔ قابل ذکر ہے کہ یہ جنگی جہاز گزشتہ سال نومبر میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا۔ مئی میں اس کی واپسی طے تھی، لیکن مشن کی مدت بار بار بڑھا دی گئی۔ تقریباً 9 ماہ کے طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد اب یہ جہاز امریکہ لوٹ رہا ہے۔ واپسی کے راستے میں امریکی فوجیوں کو تھائی لینڈ میں کچھ وقت کے لیے رکنے اور آرام کرنے کا موقع ملا۔
