ایران اور امریکہ کے درمیان خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کے اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ہی دن میں 10 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں 2 امریکی جہاز اور 8 تیل ٹینکرز شامل ہیں۔ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے 5 ایرانی تیل ٹینکرز پر کیے گئے حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ یعنی آبنائے ہرمز ایک بار پھر میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔
BREAKING: Iran’s IRGC claims it struck two US Navy destroyers, DDG-119 and DDG-53, saying the attacks caused “significant damage” in response to US actions against Iranian oil tankers.
LIVE updates: https://t.co/sNwCEy2k9t pic.twitter.com/kEV1RpYV17
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 9, 2026
آئی آر جی سی نے کہا کہ اس کی فورسز نے ان 10 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جو آبنائے ہرمز کے ایک ’ممنوعہ اور غیر محفوظ‘ علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، ایران کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس درمیان ایران نے خلیج کے دیگر ممالک میں موجود تیل ٹینکرز کو بھی وارننگ دی ہے۔ آئی آر جی سی کی بحریہ نے کویت، اردن اور بحرین کی بندرگاہوں میں موجود تمام ٹینکرز کے عملوں کو فوری طور پر جہاز خالی کرنے کو کہا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن بندرگاہوں یا لنگر انداز ہونے والی جگہوں پر امریکی موجودگی ہے اور جو امریکی کارروائی میں تعاون کر رہے ہیں، وہاں موجود ٹینکرز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی سنٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام نے 5 ایرانی خام تیل بردار جہازوں کو تباہ کرنے کی اطلاع دی تھی۔ امریکہ کے مطابق آئی آر جی سی نے گزشتہ 2 دنوں میں ایک امریکی بحری جنگی جہاز کو 2 مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ امریکی جنگی جہاز دونوں حملوں سے بچ گیا اور علاقائی پانیوں میں گشت کرتا رہا۔ امریکہ نے اس واقعہ میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہ پہنچنے کی اطلاع بھی دی۔
CENTCOM forces destroyed five Iranian crude oil carriers, Sept. 8, after the Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) targeted a U.S. Navy warship with ballistic missiles twice over the past two days. The U.S. warship successfully evaded the attempted Iranian attacks and… pic.twitter.com/Gi8a2tloN1
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 8, 2026
جہاں تک ایرانی تیل ٹینکرز پر امریکی حملوں کا سوال ہے، سینٹ کام کے مطابق ایم/ٹی کاوش، ایم/ٹی چارمینار، ایم/ٹی ہوریژن، ایم/ٹی ریسکو کو خلیج عمان میں، جبکہ ایم ٹی دیریا کو خارگ جزیرے کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے حملہ سے قبل جہازوں کے عملوں کو انہیں چھوڑنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ امریکہ نے 5 ستمبر کو بھی 3 ایرانی خام تیل بردار جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب آئی آر جی سی نے ایک امریکی ایئرکرافٹ کیریئر اور گائیڈیڈ میزائل ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں کے خلاف آئی آر جی سی کے تمام حملے ناکام رہے۔
⚡️BREAKING: The IRGC has released Footage of the Seizure of US Navy’s Advanced Dive-LD Autonomous Underwater Vehicle
The United States was using it to Detect Mines in the Strait of Hormuz
The Dive-LD contains Classified Technology and Iran will likely Share it with Russia and… pic.twitter.com/JznS0A2C7T
— Iran Observer (@IranObserver0) September 8, 2026
اس درمیان ایران نے ایک امریکی اَنڈر واٹر ڈرون کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے جواب میں پینٹاگون نے کہا کہ پانی کے اندر چلنے والا ڈرون کچھ روز قبل ہی خراب ہو گیا تھا۔ ایک امریکی افسر کے مطابق یہ پرانا ماڈل تھا، جو علاقائی پانیوں کی نگرانی کر رہا تھا اور اس میں حساس ڈاٹا یا کوئی خفیہ سونار یا رڈار والے آلات موجود نہیں تھے۔
