بہار میں قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ) کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس کارروائی اور اے کے-47 سے گولی چلائے جانے کے خلاف آر جے ڈی آج (19 اگست) راج بھون مارچ کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جب پارٹی کے ہزاروں کارکنان راج بھون کے قریب پہنچے، تو پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو پولیس نے حراست میں بھی لے لیا گیا۔
Bihar Assembly LoP Tejashwi Yadav detained while leading protest against cop using AK-47 during student protest pic.twitter.com/YJJYFq64tA
— The Tatva (@thetatvaindia) August 19, 2026
پولیس حراست میں لیے جانے کے دوران تیجسوی یادو نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم طلبا کے حقوق کی خاطر، پرچہ لیک روکنے کے لیے، بہار کو آگے بڑھانے کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عوام خاموش بیٹھنے والی نہیں ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے۔ جوابدہی طے ہونی چاہیے کہ کس کے حکم پر گولی چلائی گئی۔ بہار پرچہ لیک کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
Patna, Bihar: A large number of RJD supporters climbed onto the roof of the police vehicle in which RJD leader Tejashwi Yadav was detained. pic.twitter.com/7ZFggKxrhb
— IANS (@ians_india) August 19, 2026
قابل ذکر ہے کہ تیجسوی یادو کی قیادت میں پارٹی کے کارکنوں نے پٹنہ کے جے پی گولمبر سے راج بھون کے لیے مارچ نکالا۔ اس دوران آر جے ڈی کے کارکنان سیوان میں اے کے-47 رائفل کے استعمال کے خلاف لکڑی سے بنی اے کے-47 لے کر پہنچے۔ ساتھ ہی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
#WATCH | Patna | Protestors breach police barricades as they carry out Tejashwi Yadav-led foot march towards Lok Bhavan, raising issues of paper leaks, unemployment and problems faced by students and youth in Bihar https://t.co/bZ3EXBNbW3 pic.twitter.com/xAWGiW3tIS
— ANI (@ANI) August 19, 2026
اس دوران پارٹی رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی نے سمراٹ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’طلبا کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی، اس کے 25-20 دن گزر گئے لیکن حکومت اب تک نیند سے نہیں جاگی۔ سپریم کورٹ میں بہار حکومت نے تسلیم کیا کہ اے کے-47 رائفل کا استعمال ہوا تھا۔ تب عدالت کو بہار حکومت کے وکیل سے پوچھنا چاہیے تھا کہ اے کے-47 لے کر احتجاج میں جانے کی اجازت کس نے دی؟‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اگر ضلع مجسٹریٹ یا پولیس سپرنٹنڈنٹ نے اجازت دی تھی تو انہیں فوراً معطل کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ بہار حکومت قاتل حکومت ہے جو عام لوگوں کا قتل کروا رہی ہے اور نوجوانوں کے مستقبل کا بھی قتل کر رہی ہے۔‘‘
पटना में तेजस्वी यादव का राजभवन मार्च
लकड़ी की AK-47 लेकर पहुंचे कार्यकर्ता
हजारों कार्यकर्ताओं के हाथों में तिरंगा झंडा
राजभवन मार्च में समर्थकों की भारी भीड़ उमड़ी#Patna #TejashwiYadav #RajBhavanMarch #BiharPolitics #BiharNews #RJD #Tejashwi #PoliticalNews… pic.twitter.com/RbS54Q7HqO— Ab Star News 24×7 (@abstarnews_) August 19, 2026
پد یاترا میں شامل ہوئے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے کہا کہ ’’طلبا اور نوجوان پورے ملک میں مشتعل ہیں، خاص طور پر بہار میں۔ سوالناموں کا لیک ہونا یہاں ایک روایت بن گئی ہے۔ نوجوان بے روزگاری کی مار برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہ مارچ انہی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے نکالا گیا مارچ ہے۔‘‘ اس مقوع پر آر جے ڈی رکن اسمبلی بھائی وریندر نے کہا کہ ’’جو طلبا اپنے حقوق اور پرچہ لیک کے معاملے پر احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر اترے تھے، ان کے خلاف اے کے-47 کا استعمال کیا گیا۔ ملزمین کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جب تک کارروائی نہیں ہوتی، ہماری تحریک جاری رہے گی۔‘‘
