ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان جمعہ کے روز سعودی عرب میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔ اس خبر کے بعد ان ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں اضافے اور مبینہ ’اسلامی ناٹو‘ جیسی سیکورٹی تنظیم کے قیام سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ حالانکہ اس بارے میں پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ یہ انتظام کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہوگا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد علاقائی امن کو مضبوط بنانا اور بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنا ہے۔
‘Islamic NATO’ in the making? Speculation is rife following reports that Turkiye, Saudi Arabia, and Pakistan are planning to sign a joint defence agreement in Saudi Arabia.
The reported agreement follows Pakistan’s efforts to expand its existing defence partnership with Saudi… pic.twitter.com/GPkQeFHaIp
— The New Indian Express (@NewIndianXpress) August 7, 2026
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں سال مئی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی اور اقتصادی تعاون کے ڈھانچے کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ مستقبل میں اس میں قطر اور ترکیہ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس تجویز پر مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے اور اسے حتمی شکل دینے کا عمل چل رہا ہے۔ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں تو یہ خطے کے لیے ایک مضبوط اقتصادی اور دفاعی تعاون کا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن اپنے خطہ کے امن اور سلامتی کے لیے اس طرح کا تعاون ضروری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران دونوں ممالک نے ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ پر دستخط کیے تھے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ تقریباً 8 دہائیوں پر محیط تعلقات، اسلامی یکجہتی، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے یہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
Why labelling it Islamic, it’s a wider regional alliance, and it’s not Islamic. https://t.co/6lbGufqsBc
— Abdulla Aljenaid (@aj_jobs) August 6, 2026
اس معاہدے کے بعد ہندوستان نے کہا تھا کہ وہ اس کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ ہندوستان اس دفاعی معاہدے کے اپنی قومی سلامتی، علاقائی اور عالمی استحکام پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندوستان اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔
