29 جولائی 2026 ہماری حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم لیکن نظرانداز کیا گیا دن تھا۔ ایک قابل ذکر فیصلے میں سپریم کورٹ نے مبینہ ’کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے‘ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سی بی آئی کی جانب سے دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے سی بی آئی کی اختتامی رپورٹس کو مسترد کرنے اور سابق وزیر اعظم کے خلاف کسی ’مؤثر وجہ‘ کے بغیر منفی تبصرے کرنے پر ٹرائل کورٹ کی سرزنش کی۔
“The mischievous and indefensible allegations against Dr Manmohan Singh’s integrity have been exposed as hollow, and his record as prime minister is increasingly being recognised for what it was — a period of decisive economic, political, and social advancement in Indian history.… pic.twitter.com/waXfeeV5tD
— Congress (@INCIndia) August 11, 2026
اس فیصلہ کے ساتھ ہماری عوامی گفتگو کے سب سے المناک ابواب میں سے ایک ’ڈاکٹر سنگھ کے خلاف مہم‘ کا اختتام ہوتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ڈاکٹر سنگھ غیر معمولی دیانت داری اور اصول پسندی کے حامل شخص تھے۔ ان کے خلاف مہم منظم اور مربوط تھی، جس میں نوکر شاہی سے لے کر میڈیا، عدلیہ، سول سوسائٹی اور یقینی طور پر آر ایس ایس و بی جے پی تک کے عناصر شامل تھے۔ آج ان کی بے بنیاد مہم اپنے ناگزیر انجام تک پہنچ چکی ہے، یعنی بے نتیجہ ثابت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ ہر الزام سے باہر نکل کر سرخرو ہوئے ہیں۔
Allegations False. Record Historic. pic.twitter.com/0Vs25FFfoJ
— Congress (@INCIndia) August 11, 2026
نریندر مودی حکومت نے جس طرح کام کیا ہے، اور جرائم و بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے ای ڈی و سی بی آئی جیسے اداروں کا جس طرح واضح اور سنگین طور پر غلط استعمال کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دیانت داری اور جوابدہی کا ریکارڈ مودی حکومت کے طریقۂ کار سے بالکل برعکس ہے۔ مودی حکومت میں لیڈران کو یا تو جبر کے ذریعہ خاموش کر دیا جاتا ہے یا موقع پرستانہ انداز میں بی جے پی میں شامل کر لیا جاتا ہے، یا بعض غیر معمولی معاملات میں انہیں وزارتی عہدوں سے بھی نوازا جاتا ہے۔ جب بدعنوانی کے معتبر الزامات سامنے آتے ہیں تو مودی حکومت انہیں صاف نظر انداز کر دیتی ہے۔ حزب اختلاف میں رہیں تو بدعنوان، اور پارٹی بدلتے ہی اچانک پاک صاف!
Record of Integrity vs Misuse of Agencies pic.twitter.com/nWGLmfbFRV
— Congress (@INCIndia) August 11, 2026
یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ وزیر اعظم بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف سب سے زیادہ آواز بلند کرنے والے لوگوں میں شامل تھے۔ 8 فروری 2017 کو راجیہ سبھا میں ان کے طنزیہ اور انتہائی ناشائستہ ریمارکس، کہ صرف ڈاکٹر سنگھ ہی ’برساتی پہن کر نہانے کا فن‘ جانتے ہیں، ہماری پارلیمانی تاریخ کے پست ترین لمحات میں شمار ہوں گے۔ چونکہ پی ایم مودی اِن دنوں اُن پر حملہ کرنے والے ہندوستانی طلبا کو ’معاف‘ کر رہے ہیں، شاید وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ کے خلاف اپنے غیر شائستہ بہتان پر خود کو بھی معاف کر دیں۔
خیرات کی طرح خود احتسابی بھی گھر سے شروع ہونی چاہیے۔ آخرکار ڈاکٹر سنگھ پر جو حملے کیے گئے، ان کے پیچھے شاندار طرز حکمرانی کے ریکارڈ سے عوام کی نظر ہٹانے کی ایک بے چین خواہش کارفرما تھی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے بے مثال شرح نمو اور صارفیت و نجی سرمایہ کاری میں ایسے عروج کے ساتھ گہری معاشی تبدیلی کا آغاز کیا جس نے ہمیں متوسط آمدنی والے ممالک کی صف میں پہنچا دیا۔ 2008 میں جب عالمی معیشت کو بحران اور تباہی کا سامنا تھا، ہندوستان نے اپنی لچک کا مظاہرہ کیا۔ ان کے دور میں روزگار کے نمونوں میں تبدیلی واضح طور پر نظر آئی، جب لاکھوں افراد زیادہ پیداواری پیشوں کی طرف منتقل ہوئے۔ تاہم گزشتہ دہائی کے دوران اس تنوع کا عمل پلٹ گیا ہے۔ سابقہ حکومت کے شروع کیے گئے پروگراموں اور شرح نمو میں تیزی کی بنیاد پر ہندوستان نے غربت اور محرومی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن طور پر کامیابی حاصل کرنا شروع کی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو نکالنے کے طریقے میں دوبارہ تبدیلی کے باوجود یو پی اے حکومت کے 10 برسوں میں گزشتہ 12 برسوں کے مقابلے زیادہ معاشی نمو دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد غربت سے باہر نکلے۔
Social Rights Revolution Under Dr. Manmohan Singh pic.twitter.com/AbCYwu98AV
— Congress (@INCIndia) August 11, 2026
سماجی طور پر منموہن سنگھ حکومت نے ایک ایسے انقلاب کو ممکن بنایا جس نے تمام ہندوستانیوں، بالخصوص ہمارے معاشرے کے سب سے محروم طبقات کو حقوق فراہم کیے۔ اس نے حق تعلیم کے آئینی وعدے کو پورا کیا اور آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے مرکزی طور پر مالی اعانت یافتہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں او بی سی ریزرویشن متعارف کروا کر سماجی انصاف کو وسعت دی۔ جنگلاتی حقوق کے قانون نے کئی دہائیوں کی جدوجہد کے بعد ہمارے قبائلی اور جنگلات میں رہنے والی برادریوں کے آبائی حقوق کو تسلیم کیا۔ منریگا، جسے حال ہی میں مودی حکومت نے ختم کر دیا، دنیا میں قائم کیے گئے سب سے طاقتور سماجی تحفظ کے اقدامات میں سے ایک تھا۔ کووڈ وبا کے دوران، جب پوری معیشت شدید طور پر متاثر ہوئی تھی، منریگا ان 2 ذرائع میں سے ایک تھا جن کے ذریعے حکومت معاشرے کے غریب اور سب سے زیادہ کمزور طبقات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ دوسرا ذریعہ ڈاکٹر سنگھ کی حکومت کی ایک اور نمایاں کامیابی ’قومی غذائی تحفظ قانون 2013‘ تھی، جس نے کروڑوں خاندانوں کے لیے بنیادی غذائی راشن کی نشاندہی اور اس تک رسائی کی ضمانت دی۔ اب اس میں ترمیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عہدہ چھوڑنے کے فوراً بعد ڈاکٹر سنگھ نے خبردار کیا تھا کہ حقوق پر مبنی قانون سازی حملے کی زد میں آئے گی، اور افسوس ناک طور پر ان کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔
The Dr. Singh Govt Built Safety Nets
The Modi Govt Dismantled Them pic.twitter.com/3S6FzS2ewI
— Congress (@INCIndia) August 11, 2026
سیاسی طور پر وزیر اعظم کی حیثیت سے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دہائی ریاست اور سول سوسائٹی کے جمہوری اداروں کی ترقی اور مضبوطی سے عبارت تھی۔ ڈاکٹر سنگھ نے تاریخی حق اطلاعات قانون کے ذریعہ حکومت میں شفافیت کے ایک نئے دور کا آغاز کیا، جس نے شہریوں کو حکومت کے اندرونی امور تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ آر ٹی آئی اب مکمل طور پر بے اثر ہو چکا ہے۔ آزاد میڈیا میں غیر معمولی وسعت آئی، جس کی خصوصیت ایسی بے خوفی تھی جو اس کی موجودہ کمزوری کے مقابلے میں اور بھی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ سول سوسائٹی ایک ایسی قوت بن کر ابھری جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا، اور ہمارے طلبا کو حکومت حتیٰ کہ وزیر اعظم کے خلاف بھی احتجاج کرنے کی آزادی حاصل تھی، بغیر اس کے کہ ان پر پیلیٹ گنوں یا اے کے-47 سے فائرنگ کی جائے۔
Civil Society Under Dr. Singh: Protest Was Free. No Pellets. No AK-47s pic.twitter.com/rOBm2Uotvj
— Congress (@INCIndia) August 11, 2026
وزیر اعظم باقاعدگی سے 100 سے زیادہ غیر اسکرپٹیڈ پریس کانفرنسوں کے ذریعہ پارلیمنٹ اور میڈیا کے سامنے خود کو جواب دہ بناتے تھے۔ اور یقیناً ہم اس تاریخی اور انقلابی ہندوستان-امریکہ جوہری معاہدے کو نہیں بھول سکتے، جس نے جوہری امتیاز اور ہندوستان کے خلاف کئی دہائیوں پر محیط ’انکار‘ کا خاتمہ کیا اور عالمی سطح پر ہندوستان کی آمد کا اعلان کیا۔ یہ ان کی سیاسی جرأت اور مسلسل کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ معاہدہ اب پھل دے رہا ہے۔ ڈاکٹر سنگھ عالمی فورمز پر ایک قابل احترام اور داد و تحسین پانے والے شخص تھے اور انہوں نے کبھی اپنی ان کامیابیوں اور حاصل ہونے والے اعزازات کی نمائش اور تشہیر کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
ہندوستان کی معاشی صلاحیت پر ان کا یقین، ہر آخری شہری کو انصاف فراہم کرنے کی ان کی خواہش اور جمہوریت پر ان کا پختہ یقین ان کی حکومت کے فلسفے کی بنیاد تھے۔ آج کے متصادم دور میں ڈاکٹر سنگھ کی مدبرانہ قیادت، علمی بصیرت اور بنیادی شرافت کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی دیانت داری کے خلاف شرارت پر مبنی اور ناقابل دفاع الزامات کھوکھلے ثابت ہو چکے ہیں، اور وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے ریکارڈ کو تیزی سے سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ ان کا دور ہندوستان کی تاریخ میں فیصلہ کن معاشی، سیاسی و سماجی ترقی کا دور تھا۔
Dr. Singh’s Statesmanship Sorely Missed in Today’s Conflicted Times pic.twitter.com/ZY1EU1HL8n
— Congress (@INCIndia) August 11, 2026
ہم سب کو یقیناً افسوس ہے کہ وہ آج کا دن دیکھنے اور اپنی دانش مندی سے قوم کی رہنمائی کرنے کے لیے ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ لیکن ہم سب کے لیے یہ اطمینان کی بات ہے کہ جنوری 2014 میں ان کی دور اندیش پیش گوئی ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ تاریخ واقعی انہیں ایک خاموش، نرم مزاج لیکن نہایت مؤثر وزیر اعظم کے طور پر اچھی باتوں کے لیے یاد رکھے گی۔
(مضمون نگار کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن ہیں۔ یہ مضمون انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہوا، جس کا ترجمہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)
